حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران کے میئر ڈاکٹر علی رضا زاکانی نے اعلان کیا ہے کہ رہبرِ شہید کی تشیع کے عظیم الشان مراسم کے انعقاد کے لیے دارالحکومت میں مکمل تیاریوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تاریخی اجتماع میں لاکھوں افراد کی متوقع شرکت کے پیشِ نظر تمام متعلقہ اداروں، بلدیاتی انتظامیہ اور عوامی رضاکاروں کے درمیان بھرپور ہم آہنگی ناگزیر ہے۔
تہران میں منعقدہ ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میئر نے بتایا کہ تشییع جنازہ تقریباً 16.5 کلومیٹر طویل راستے پر تہران پارس سے میدانِ آزادی تک ہوگی۔ اس وسیع پیمانے کے اجتماع کو منظم انداز میں چلانے کے لیے کثیر سطحی منصوبہ بندی اور مختلف اداروں کے درمیان مؤثر تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شہریوں کی رضاکارانہ شرکت بھی انتظامی بوجھ کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
ڈاکٹر زاکانی نے رہائش، مہمان نوازی اور انتظامی امور کو تقریب کے اہم ترین شعبے قرار دیتے ہوئے ہدایت دی کہ تہران کی تمام 22 بلدیاتی انتظامیہ اپنے اپنے علاقوں میں واضح اور قابلِ عمل منصوبے تیار کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بعض انتظامی طریقے عوامی ہجوم کی نقل و حرکت میں رکاوٹ بن سکتے ہیں، اس لیے تمام تجاویز کا باریک بینی سے جائزہ لے کر مؤثر ترین حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔
انہوں نے رضاکارانہ سکیورٹی اور نظم و ضبط کی ٹیموں کے استعمال کی تجویز بھی پیش کی اور کہا کہ اہم مقامات اور چوراہوں پر تربیت یافتہ رضاکاروں کی تعیناتی سے ہجوم کو بہتر انداز میں منظم کیا جا سکے گا۔ میئر نے شدید گرمی، حفاظتی اقدامات اور ہنگامی طبی سہولیات کی فراہمی کو بھی خصوصی اہمیت دینے کی ہدایت کی۔
اس موقع پر تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا کہ تقریب کے انعقاد تک وقت کم رہ گیا ہے، لہٰذا تمام عملی اقدامات فوری طور پر شروع کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ زائرین کی رہائش اور سہولتوں کے لیے پارکوں، ثقافتی مراکز، مساجد، مدارس اور دیگر عوامی مقامات سے استفادہ کیا جائے گا، جبکہ مصلیٰ اور جلوس کے اہم مقامات کے اطراف ’’شہرِ زائر‘‘ کے طرز پر عارضی مراکز بھی قائم کیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بجلی، پانی، صفائی اور امدادی خدمات کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے جامع منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق رہبرِ شہید کی تشییع ایک غیر معمولی اور تاریخی قومی اجتماع ہوگا، جس کے لیے مربوط اور منظم انتظامی نظام تشکیل دیا جا رہا ہے۔









آپ کا تبصرہ